مالیگائوں یکم جنوری (ایس او نیوز/موصولہ رپورٹ) طلاق ثلاثہ بل پر مالیگاؤں سمیت ملک بھر کے مسلمانوں میں شدید بے چینی و اضطراب کا ماحول ہے 28 دسمبر کو ہندوستانی پارلیمنٹ میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے خود آئین ہند اور مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں دخل اندازی کرتے ہوئے شریعت اسلامی میں چھیڑ چھاڑ کی ہے جو کہ ملک کا مسلمان قطعی برداشت نہیں کریگا اس معاملے میں کانگریس پارٹی پوری طاقت کے ساتھ اپنی مخالفت درج کراتے ہوئے اس بل کو راجیہ سبھا میں منظور نہ ہونے دیں اس طرح کا خط مالیگاؤں کے رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے کانگریس ہائی کمان کے ساتھ ساتھ راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد، راہل گاندھی، صدر آل انڈیا کانگریس پارٹی، اور اشوک راؤ چوہان صدر مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی ممبئی کو روانہ کیا ہے آصف شیخ رشید نے مالیگاؤں سمیت ملک کے مسلمانوں کی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 28 دسمبر 2017 کو مودی سرکار نے تین طلاق پر جو بل پارلیمنٹ میں منظور کیا ہے ، اُس تعلق سے الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے اس بات کا پتہ چلا ہے کہ کانگریس پارٹی کے ساتھ کچھ دیگر سیکولر پارٹیوں نے بھی تین طلاق بل میں ترمیم کے ساتھ حمایت کی ہے اور بل پارلیمنٹ میں پاس ہوگیا ہے۔ اس بل کو منظور کرنے پر ہندوستان کے کروڑوں مسلمان ناراض ہیں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے علماء کرام اور ہندوستان میں آباد مسلمانوں میں اس بل کو لیکر شدید بے چینی پھیلی ہوئی ہے، میں ایک مسلمان اور ذمہ دارشہری ہونے کے ناطے کانگریس پارٹی سے اپیل کرتا ہوں کہ یہ بل جب راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا تو راجیہ سبھا میں کانگریس پارٹی UPA میں شامل تمام پارٹیوں سمیت ملک کی تمام سیکولر سیاسی جماعتوں کو ساتھ لیکر تین طلاق بل کی شدت کے ساتھ مخالفت کریں اور اسے منظور نہ ہونے دیں انہوں نے کہا کہ ملک کے مسلمان آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ ہیں ہم مالیگاؤں شہر کی عوام بھی پرسنل لاء بورڈ اور علماء کے ساتھ ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔
آصف شیخ نے خط میں کانگریس پارٹی سے کہا ہے کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے اس ملک کے قانون کے مطابق ہر کو اپنے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گذارنے کا حق حاصل ہے کسی ایک مذہب سے اسکے مذہبی حقوق کو چھینا نہیں جاسکتا مرکزی حکومت نے تین طلاق بل پاس کر مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر شب خون مارا ہے جو کہ خود آئین ہند اور شریعت اسلامی کے خلاف ہے آصف شیخ نے لیٹر میں تحریر کیا ہے کہ مسلمان اپنے مذہبی معاملات میں کسی بھی طرح کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔